نئی دہلی، 20؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )مودی حکومت پر بڑے نوٹوں کو بند کرنے کا قدم بغیر تیاری کے اٹھائے جانے کا الزام لگاتے ہوئے سابق مرکزی وزیر اور لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکاارجن کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن اس مسئلے پر ووٹوں کی تقسیم کی شق والے ضابطہ کے تحت سنجیدہ اور بامعنی بحث چاہتا ہے جس کی وجہ سے عام لوگ پریشان ہیں ، لیکن حکومت ایوان میں خانہ پور ی کرکے تنقید سے بچنا چاہتی ہے۔ملکاارجن کھڑگے نے میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ ہم نے لوک سبھا میں نوٹ بند ی کی وجہ سے عام لوگوں کو ہو رہی مشکلات اور اس اعلان کو چنندہ طریقے سے لیک کئے جانے کے معاملے پر لوک سبھا میں کاروائی ملتوی کرنے کا نوٹس دیا تھا، ہم ضابطہ 56کے تحت ایوان میں بحث کرنا چاہتے ہیں، لیکن اسپیکر نے اسے مسترد کر دیا ہے، حکومت بھی اس ضابطہ کے تحت بحث کے لیے تیار نہیں ہے۔وہ ضابطہ 193کے تحت بحث چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا ، لیکن یہ ایک اہم اور سنگین مسئلہ ہے، سارے ملک کی عوام اس سے متاثر ہو رہی ہے، حکومت چاہتی ہے کہ ضابطہ 193کے تحت صرف بحث کی خانہ پور ی ہو جائے، وہ چاہتی ہے کہ اس قدم کی وجہ سے پیدا ہوئی مشکلات ، سچائی اور حقائق سامنے نہ آئیں ۔حکومت چاہتی ہے کہ اسے کٹہرے میں نہیں کھڑا کیا جا سکے، اس معاملے پر بحث کے بعد ووٹنگ نہ ہو، لیکن اپوزیشن چاہتا ہے کہ یہ معلوم ہو ناجاہیے کہ کون کہاں کھڑا ہے،لیکن حکومت تنقید سے بچنا چاہتی ہے۔کھڑگے نے کہاکہ انہیں (حکومت)کو بحث کے لیے تیار ہو جانا چاہیے ۔دوسرے ایوان(راجیہ سبھا)میں اس طرح سے بحث شروع ہو چکی ہے۔